ان کی خرید و فروخت سٹاک ایکسچینج پر شیئرز کی طرح ہوتی ہے اور ان کی قیمت و قدر کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ پورے پورٹ فولیو کی کارکردگی کیسی ہے۔
یہاں تک کہ کچھ لوگ اپنے پاس ورڈ بھول گئے ہیں۔ اب انھیں اپنے ہی بٹوے تک رسائی نہیں مل رہی ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنے کئی ملین ڈالرز سے محروم ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ نے بتایا ، "بھوٹان کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہمارے سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو کے ایک حصے کے طور پر ہمارے پاس کان کنی کے معاملے میں ہمارے پاس موجود سبز توانائی کا فائدہ اٹھائیں۔”
پوپ لیو نے انگولا سے کہا کہ وہ ‘امید پیدا کریں’
ہمارے معاشرے میں ایک عمومی مزاج رائج ہے کہ جب کبھی بھی ترقی کرتی ہوئی دنیاکے ساتھ کوئی نئی چیز وجود میں آتی ہے تو عوام الناس اس کا شرعی حکم جاننے کے لیے علمائے کرام کی طرف رجوع کرتی ہے جو کہ بلا شبہ ایک قابل تعریف امر ہے لیکن ساتھ ایک افسوس ناک امر یہ ہوتا ہے کہ اگر علما اس پر محققین کی آراء کی روشنی میں حرمت کا فتوی دیتے ہیں تو علماء دقیانوس اور ترقی سے دور شخصیات جیسے القابات سے نوازے جاتے ہیں اور اگر علماء محققین کی آراء کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے حلال ہونے کا فتوی دیتے ہیں تو لوگ اس میں سرمایہ کاری بغیر سوچے سمجھے شروع کر دیتے ہیں اور اگر اس میں نقصان ہو جائے تو علماء کو ہدف تنقید بنایا جاتایہ رویہ قطعا غیر مناسب رویہ ہے حالانکہ نبی ﷺ نے بیان فرمایا : إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ اخطا فلہ أَجْرٍ – یعنی : جب فیصلہ کرنے والا کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے دو ثواب لتے ہیں اور جب کسی فیصلے میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے ایک ثواب ( اپنی محنت کا ) ملتا ہے۔ غور فرمائیں کہ نبی ﷺ نے دونوں صورتوں میں علماء کے لیے ثواب اور نیکی کی بشارت دی ہے نہ کہ یہ فرمایا کہ اگر وہ غلط ہوں تو ان کو ہدف تنقید بنایا جائے ۔
ٹوبگے نے وضاحت کی کہ گرمیوں کے مہینوں کے دوران ، پانی کا زیادہ بہاؤ ہوتا ہے اور پن بجلی کے پودے ضرورت سے زیادہ توانائی پیدا کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں مبینہ طور پر ’زہریلا‘ جُوس پینے سے شہریوں کی اموات، حقیقت کیا ہے؟
جب میں ویب پر اپنی رقم دے کر خوش تھا تو ایسے میں مجھے فوراً معلوم ہوا کہ بٹ کوائن کو آن لائن منشیات خریدنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جو ایک ایسی چیز تھی جس کی میں نے کبھی کوشش نہیں کی۔ بٹ کوئن کو آپ اپنی ہفتہ وار خریداری کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔ مجھے یہ اس لیے معلوم ہے کیونکہ ایک سٹور پر لوگ مجھ پر ہنس چکے ہیں۔
ارکھم کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بھوٹان میں بھی دیگر کریپٹو کرنسیوں کا انعقاد کیا گیا ہے ، جن میں ایتھرئم اور لنقائی بھی شامل ہیں۔ اگرچہ ان کرنسیوں کی بادشاہی کے انعقاد بٹ کوائن سے کہیں زیادہ چھوٹا ہے۔
آبنائے ہرمز میں دو انڈین پرچم پردار بحری جہازوں پر ’فائرنگ‘ اور انڈیا کی تشویش: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
ٹوکن کی معلومات اَپ ڈیٹ کریں ٹوکن جمع کروائیں اَن لاکس کمیونٹی بیج حاصل کریں
اگر کرنسی کی جنس الگ ہے تو کمی بیشی جائز ہے لیکن جس مجلس میں لین دین کا معاملہ ہو رہا ہے اس مجلس میں دونوں طرفین کا کرنسی پر قبضہ حاصل کرنا میم کوائن ضروری ہے۔ ادھار جائز نہیں ہے ۔ مثلاً : اگر زید نے عمر سے ایک بٹ کوائن کے بدلے دولائٹ کوائن کا معاہدہ کرنا کریپٹو کرنسی ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ جس مجلس میں یہ معاہدہ ہو رہا ہے اس میں عمر کے پاس بٹ کوائن ٹرانسفر ہو جانا چاہیے اور زید کےپاس دو لائٹ کو ائن ٹرانسفر ہو جانا چاہیے۔
امریکا کے سب سے بڑے بینک "جے پی مورگن چیز" کے اعلیٰ ترین عہدہ دار کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن محض فراڈ ہے۔ ٹیولپ بلب سے بھی بدتر فراڈ۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: کیا ماضی میں ایسے اقدامات کسی ملک کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر سکے ہیں؟