لیکن بڑھتی ہوئی معاشی تکلیفوں اور دماغی نالیوں کے درمیان ، چھوٹی ، سرزمین ہمالیائی بادشاہی ترقی کے ایک نئے نشان کو اپنا رہی ہے ، جو بھوٹان کو مالی جدت طرازی کو قبول کرنے میں عالمی سطح پر ایک اہم کردار کی طرف راغب کررہی ہے: بٹ کوائن۔
یہ عمل متنازع بھی ہے کیونکہ دنیا بھر میں لوگ سب سے پہلے تصدیق کی دوڑ میں رہتے ہیں اور اسی سبب برقی توانائی بھی ضائع ہوتی ہے اور پاکستان میں بھی کرپٹو کرنسی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
روایتی اندازِ کاروبار کی طرح کرپٹو ایکسچینج بھی کسی بروکریج ہاؤس کی طرح کام کرتا ہے جہاں لوگ بینکوں سے اپنی رقوم نکال کر ڈالر یا پاونڈ کو بِٹ کوائن یا ایتھیریم جیسی کرپٹی کرنسیوں میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
امریکہ کے اس اقدام سے نئے سرمایہ کاروں جیسے کہ بلیک راک جیسے بڑی کمپنیوں کو یہ اجازت مل گئی ہے کہ وہ بِٹ کوائن کی دنیا میں قدم رکھ سکیں یہ سوچے بغیر کہ ان کے ڈیجیٹل والٹ یا کرپٹو ایکسچینجز کی صورتحال کیا ہے۔
یہ کمپیوٹرز جن میں سے اکثر بٹ کوائن بنانے والی بڑی کمپنیوں کی ملکیت ہوتے ہیں، ہائی ٹیک اکاؤنٹنٹس کی طرح کام کرتے ہیں جو بٹ کوائنز کے لین دین کا ریکارڈ جانچتے اور محفوظ کرتے ہیں۔ اس کام کے عوض کمپیوٹرز کو خود بخود بٹ کوائنز ہی ملتے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں دو انڈین پرچم پردار بحری جہازوں پر ’فائرنگ‘ اور انڈیا کی تشویش: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
کرپٹو والٹ ایک ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں سرمایہ کار اپنی کرپٹو کرنسی کو محفوظ رکھتے ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہوتی ہیں: ہاٹ والٹ اور کولڈ والٹ۔
بٹ کوائن مائننگ کمپنیاں طاقتور کمپیوٹرز سے بھرے ویئر ہاؤسز چلاتی ہیں اور اس کرنسی کے لین دین کے عوامی بلاک چین کو اپ ٹو ڈیٹ رکھتی ہیں۔ اس کام کے عوض بٹ کوائن کا نظام خود بخود انھیں بٹ کوائنز ایک ایسے عمل کے ذریعے دیتا ہے جسے مائننگ کہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ بٹ کوائن "قیمت کی بچت" ہے۔ لیکن بٹ کوائن کی کوئی قیمت نہیں۔ جو چیز آپ رکھ نہیں سکتے اس کی بچت کیسے کر سکتے ہیں؟
دو ایک جیسی کرنسیوں کے آپس کے لین دین میں یہ شرط ہے کہ ان کی تعداد بالکل برابر ہو کمی بیشی جائز نہیں ہے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ جس مجلس میں معاہدہ ہو رہا ہے اس مجلس میں دونوں کرنسیوں پر قبضہ حاصل کیا جائے۔ کر پٹوکرنسی میں بطور مثال اگر کسی نے میم کوائن بٹ کوائن کو بٹ کوائن کے بدلے خریدنا ہے تو دونوں کی مقدار بلکل برابر ہونی چاہیے۔ کمی بیشی جائز نہیں ہے۔ ایک بٹ کوائن کے بدلے ایک بٹ کوائن کا تبادلہ ہی ہوسکتا ہے۔
اسلام آباد، راولپنڈی میں ہر قسم کی ٹریفک کا داخلہ تاحکمِ ثانی بند، ’عوام تعاون کریں‘
فروری کے وسط میں ایسے ای ٹی ایف شروع کرنے کے لیے میکا کوائن درخواست دینے والی سرمایہ کار کمپنیوں نے ہزاروں کی تعداد میں بٹ کوائنز خریدنا شروع کر دیے، کیونکہ ہیج فنڈز سے لے کر سٹاک مارکیٹ کے تاجروں تک ہر کسی نے بٹ کوائن کی قیمت پر شرط لگانے کے لیے ای ٹی ایف خریدے جبکہ خود ان کے پاس ایک بھی ایسا کوائن نہیں تھا۔
مائیکل سائلر معروف انویسٹمنٹ کمپنی مائیکرو سٹریٹجی کے سی ای او ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب کا پاکستان کو اضافی تین ارب ڈالر قرض دینے اور موجودہ پانچ ارب ڈالر کے ڈپازٹس میں توسیع کتنی اہم ہے؟